Posts

Ye Bandagi Khudai, Woh Bandagi Gadai - Dr. Allama Iqbal

Image
Ye Bandagi Khudai, Woh Bandagi Gadai Ya Banda-e-Khuda Ban Ya Banda-e-Zamana! If slave to God, you grow divine, If slave to world a beggar mean: You are the master of your fate, so make the choice the two between. Ghafil Na Ho Khudi Se, Kar Apni Pasbani Shaid Kisi Haram Ka Tub Hi Hai Astana Of selfhood heedless never be, Your gaze to self always confine: Who knows, you mat anon become the threshold of some sacred shrine. Ae LA ILAH Ke Waris! Baqi Nahin Hai Tujh Mein Guftar-e-Dilbarana, Kirdar-e-Qaharana O heir to creed no god but He, In you I see no sign or trace Of mighty deeds that terror strike, Your talk devoid of charm and grace. Teri Nigah Se Dil Seenon Mein Kanpte The Khoya Gya Hai Tera Jazb-e-Qalandarana Your glances bold would strike the heart with awe, though sheathed within the breast: Alas! a Qalandar’s fervent zeal in you is dead and is at rest. Raaz-e-Haram Se Shaid Iqbal Ba-Khabar Hai Hain Iss Ki Guftugu Ke Andaz Mehramana Of Sanctuary’s secret hid Iqbal perhaps is well a...

Khudai Ehtamam-e-Khushk-o-Tar Hai - Dr. Allama Iqbal

Image
Khudai Ehtamam-e-Khushk-o-Tar Hai Khudawand! Khudai Dard-e-Sar Hai To be God is to have charge of land and sea; Being God is nothing but a headache! Walekin Bandagi, Astagfirullah! Ye Dard-e-Sar Nahin, Dard-e-Jigar Hai But being a servant of God? God forbid! That is no headache—it is a heartache! (Bal-e-Jibril-114) Khudai Ehtemam-e-Khushk-o-Tar Hai خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے خداوندا! خدائی دردِ سر ہے و لیکن بندگی، استغفراللہ! یہ دردِ سر نہیں، دردِ جگر ہے بالِ جبریل کی یہ رباعی بظاہر عام قاری کو چونکا دینے والی محسوس ہو سکتی ہے۔ الفاظ جیسے "خدائی دردِ سر ہے" پہلی نظر میں گویا بےباکی کا تاثر دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ یہاں صوفیانہ انداز میں کائنات اور بندگی کے بوجھ اور حقیقت کا موازنہ کر رہے ہیں۔ یہ وہ اسلوب ہے جو اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کئی جگہوں پر اختیار کیا ہے؛ زبان بظاہر سخت، مگر معنی انتہائی لطیف اور روحانی۔ "خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے" یہاں "خشک و تر" سے مراد خشکی اور پانی کی پوری کائنات ہے۔ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ...

Teri Banda Parwari Se Mere Din Guzar Rahe Hain - Dr. Allama Iqbal

Image
Teri Banda Parwari Se Mere Din Guzar Rahe Hain Na Gila Hai Doston Ka, Na Shikayat-e-Zamana My days are carried by Your boundless grace; I do not complain of friends, nor scold the passing age. تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں نہ گِلہ ہے دوستوں کا، نہ شکایتِ زمانہ بندہ پروری: مہربانی، کرم نوازی۔ گِلہ: شکوہ، ناراضی   اس شعر میں علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ انسان کی روحانی پرواز اور باطنی اعتماد کی انتہائی لطیف کیفیت بیان کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ "تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں"یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی مسلسل عنایتوں اور ربانی کرم کے ادراک کا بیان ہے۔ جب بندہ اپنے ربّ کی مہربانیوں کا مشاہدہ ہر لمحے کرے تو زندگی کا ہر دن، ہر گھڑی، اس کے لئے ایک نئی رحمت بن جاتی ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں دل دنیا کے شور سے بےنیاز ہو جاتا ہے اور ربّ کی عطا سے لبریز۔ اس کیفیت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پھر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق: "نہ گِلہ ہے دوستوں کا، نہ شکایتِ زمانہ" یعنی جب دل خدا کی کرم نوازی میں مستغرق ہو جائے تو نہ کسی کی بےوفائی دل کو توڑتی ہے، نہ زمانے کی سختیاں انسا...

Europe Ki Ghulami Pe Razamand Huwa Tu - Allama Iqbal

Image
Europe Ki Ghulami Pe Razamand Huwa Tu Mujh Ko To Gila Tujh Se Hai, Europe Se Nahin Hai! It is you who became the willing slave of Europe: My complaint is against you, it is not against Europe! یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تُو مجھ کو تو گِلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے! (Zarb-e-Kaleem-172) Gila ~ Dr. Allama Muhammad Iqbal (R.A.) #Iqbaliyat #Poetry #AllamaIqbal #West #Culture #Europe #Ghulami #Slavery #Freedom #East #Revolution 

Mujhe Dra Nahin Sakti Faza Ki Tareeki - Dr. Allama Iqbal

Image
Mujhe Dra Nahin Sakti Faza Ki Tareeki Meri Sarisht Mein Hai Paki-o-Durkhashani I fear not the darkness of the night; My nature is bred in purity and light; مجھے ڈرا نہیں سکتی فضا کی تاریکی مِری سرشت میں ہے پاکی و دُرخشانی مطلب :علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ ستارہ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ جس کی فطرت میں پاکیزگی، بلندی اور روشنی ہو، اسے دنیا کے اندھیرے، خوف، مشکلات یا مایوسی ہلا نہیں سکتیں۔ ستارہ کہتا ہے کہ اندھیری فضا مجھے مرعوب نہیں کرسکتی، کیونکہ میرے وجود میں اصل ہی روشنی کی ہے۔ میری پہچان یہ ہے کہ میں ظلمت میں چمکتا ہوں اور تاریکی کو چیر کر راستہ دکھاتا ہوں۔ انسان کو بھی یہی درس دیا گیا ہے کہ اندر کا نور مضبوط ہو تو باہر کی تاریکی بے اثر ہو جاتی ہے۔ Tu Ae Musafir-e-Shab! Khud Charagh Ban Apna Kar Apni Raat Ko Dagh-e-Jigar Se Noorani Wayfarer of the night! Be a lamp to thyself; With thy passion’s flame, make thy darkness bright تُو اے مسافرِ شب! خود چراغ بن اپنا کر اپنی رات کو داغِ جگر سے نُورانی مطلب: علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ ستارہ رات کے مسافر یعنی زندگی کے سفر میں بھٹکنے والے انس...

Kehta Hun Wohi Baat Samajhta Hun Jise Haq - Dr. Allama Iqbal

Image
Apne Bhi Khafa Mujh Se Hain, Begane Bhi Na-Khush Main Zehar-e-Halahil Ko Kabhi Keh Na Saka Qand My own reproach me, the stranger loves me not; Hemlock for honey I could never allot. اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش میں زَہرِ ہَلاہِل کو کبھی کہہ نہ سکا قَند مطلب: میری سچی باتوں کی وجہ سے میرے اپنے بھی ناراض ہیں اور اجنبی لوگ بھی خوش نہیں۔ میں کبھی تلخ کو میٹھا نہیں کہہ سکتا یعنی منافقت، جھوٹ یا خوشامد میرے مزاج میں نہیں۔ میں زہر کو زہر ہی کہتا ہوں، قند نہیں کیونکہ حق بات کہنے سے ڈرتا نہیں، چاہے کسی کو بری لگے۔ Kehta Hun Wohi Baat Samajhta Hun Jise Haq Ne Abla-e-Masjid Hun, Na Tehzeeb Ka Farzand God-filled, I roam, and speak the truth I see; No blind devotee, nor slave to modernity. کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق نہ اَبلہِ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند مطلب: میں ہمیشہ وہی بات کہتا ہوں جو میرے نزدیک سچ اور حق پر مبنی ہوتی ہے۔ نہ میں اُن لوگوں میں سے ہوں جو دین کا نام لے کر دنیاوی فائدے حاصل کرتے ہیں، اور نہ ہی اُن میں سے جو مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔ یعنی میں نہ رجعت ...

Iqbal Day - 9th November

Image
Gye Din Ke Tanha Tha Main Anjuman Mein Yahan Ab Mere Raazdaan Aur Bhi Hain Gone are the days when I was alone in company— here, now I have many of my confidants. گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں تنہا: اکیلا۔ انجمن: محفل۔رازداں: راز جاننے والا۔ مطلب: ابتدا میں علامہ اقبالؒ کی فکر کو سمجھنے والے کم تھے، وہ اپنے خواب، درد اور فکرِ اُمت کے ساتھ ایک تنہائی کے سفر پر تھے۔ مگر ان کی فکر کی روشنی نے اسی تنہائی کو ایک بیداری میں بدل دیا، جو دلوں میں چراغ بن کر جل اٹھی۔ ان کے خیالات قوم کے شعور میں اتر گئے اور ان کے خواب بے شمار نگاہوں کا مرکز بن گئے۔ وہ محض شاعر یا مفکر نہیں رہے بلکہ بیداریِ ملت، خودی اور روحانی انقلاب کے پیغام کی علامت بن گئے۔ اب ان کے راز کو سمجھنے والے، ان کے درد کے ہم نوا اور ان کے سفر کے ہم قدم بے شمار ہیں۔ (Bal-e-Jibril-060) Sitaron Se Agay Jahan Aur Bhi Hain #IqbalDay #9thNovember #AllamaIqbal #SirIqbal #9Nov #Iqbaliyat #Razdan #AakhriPaigham #UrduPoetry