Posts

Mere ALLAH Burai Se Bachana Mujhko - Dr. Allama Iqbal

Image
Mere ALLAH Burai Se Bachana Mujhko Naik Jo Rah Ho, Ussi Reh Pe Chalana Mujhko   ALLAH Almighty ! Protect Me From The Evil Ways Show Me The Path Leading To The Good Ways (Bang-e-Dra-009) Bache Ki Dua مرے اللہ! بُرائی سے بچانا مجھ کو نیک جو راہ ہو، اس رہ پہ چلانا مجھ کو یا اللہ! مجھے ہر برائی، ہر گناہ، اور ہر فتنے سے محفوظ فرما۔ میرے دل کو برے خیالات سے پاک کر دے، میرے قدموں کو گمراہی سے بچا لے، اور میری روح کو برے اعمال سے دور رکھ۔ جو راستہ تیرے قرب کا ہے، جو راہ تیری رضا کی طرف جاتی ہے، مجھے اسی راہ پر ثابت قدم رکھ۔ اگر میں بھٹکنے لگوں تو میری رہنمائی فرما، اگر میں کمزور پڑ جاؤں تو مجھے طاقت عطا کر، اور اگر میں کسی لغزش کا شکار ہو جاؤں تو اپنی رحمت سے مجھے تھام لے۔ یا اللہ! میری سوچ، میرے الفاظ، میرے اعمال سب کو نیکی اور سچائی کے راستے پر چلا، اور مجھے ہمیشہ اپنی محبت اور ہدایت میں رکھ۔ آمین! #Dua #Pray #Praying #Namaz #Muslims #Iqbal #Poetry #Islam #Allamaiqbal #Poem #Allah #Muhammad #DrIqbal #Lines #Quotes #AakhriPaigham 

Woh Zamane Mein Mu’azzaz The Musalman Ho Kar - Dr. Allama Iqbal

Image
Woh Zamane Mein Mu’azzaz The Musalman Ho Kar Aur Tum Khawar Huwe Taarik-e-Quran Ho Kar The honoured of their times, they lived, For theirs was true iman, You live disgraced, as having left the paths of Al‐Quran. وہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارکِ قُرآں ہو کر علامہ اقبالؒ اس شعر میں مسلمانوں کی کمزوری اور پستی کی بنیادی وجہ بیان کر رہے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں مسلمان دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہے، لیکن یہ عزت اور عظمت صرف اس لیے ممکن ہوئی کیونکہ وہ دینِ اسلام پر مکمل عمل پیرا تھے اور قرآن کو اپنا رہنما مانتے تھے۔ پہلا مصرعہ ہمیں اس دور کی یاد دلاتا ہے جب مسلمان علم، تہذیب، اور عدل و انصاف کے میدان میں سب سے آگے تھے۔ ان کی کامیابی کا راز ان کی دینی وابستگی تھی، کیونکہ وہ قرآن کے احکامات کو سمجھ کر ان پر عمل کرتے تھے۔ اسی قرآن نے انہیں بلند مقام عطا کیا اور دنیا میں سربلند رکھا۔ دوسرے مصرعے میں اقبالؒ مسلمانوں کو ان کے موجودہ حالات کا آئینہ دکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کے مسلمان قرآن سے دور ہو چکے ہیں، اس کی تعلیمات کو بھلا بیٹھے ہیں اور اس پر عمل ...

Main Bulbul-e-Nalan Hun Ek Ujre Gulistan Ka - Dr. Allama Iqbal

Image
Main Bulbul-e-Nalan Hun Ek Ujre Gulistan Ka Taseer Ka Saa’il Hun, Mauhtaj Ko, Data De! I am a nightingale making my lament, I am from a garden which has been ravaged. I wish that my prayer would have effect—Give to a beggar, bounteous Lord! مَیں بُلبلِ نالاں ہوں اِک اُجڑے گُلستاں کا تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو، داتا دے! مطلب: یہ نظم ایک پُرجوش دعا اور فریاد ہے جو اقبال ؒنے امتِ مسلمہ کی بیداری اور نشاةِ ثانیہ کے لیے کی ہے۔ آخری شعر اس نظم کا اختتامیہ ہےجو شاعر کے گہرے درد، اضطراب اور التجا کو نمایاں کرتا ہے۔اقبالؒ خود کو ایک افسردہ، فریاد کناں بلبل قرار دیتے ہیں، جو ایک اجڑے ہوئے گلستان (امت مسلمہ) کے زوال پر نوحہ کر رہی ہے۔ یہ وہ امت ہے جو کبھی علم، کردار، اور عظمت میں دنیا کی راہنما تھی، مگر اب بکھر چکی ہے، اس کی روحانی و فکری طاقت ماند پڑ چکی ہے۔ اقبالؒ ایسی تاثیر کے طلبگار ہیں جو دلوں کو جھنجھوڑ دے، سوچ کے زاویے بدل دے، اور امت کو بیدار کر دے۔ وہ شاعری کو محض الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ عمل کی چنگاری بنانا چاہتے ہیں—ایسا پیغام جو سننے والوں کے اندر تڑپ پیدا کر دے اور انہیں اپنی کھوئی ...

Two years without the legendary Sir Zia Mohyeddin

Image
Two years without the legendary Sir Zia Mohyeddin, yet his voice still echoes in our hearts. His recitations were not just words but a profound experience—each syllable carrying depth, power, and unmatched grace. A narrator like no other, he brought poetry to life, making every verse timeless. We are forever grateful for his remarkable recitation of Kalam-e-Iqbal, preserving the essence of Iqbal’s words with his powerful voice. Today, we remember and honor his legacy, the voice that made words eternal. Sir Zia lives on, not just in memory, but in every line he ever recited. Thank you, Sir Zia Mohyeddin, for bringing Kalam-e-Iqbal to life. Rest in Peace. Your voice will never fade. 🎙️✨ ~ Poetry Used in Video:  Nawa Pera Ho Ae Bulbul Ke Ho Tere Taranum Se Kabootar Ke Tan-E-Nazuk Mein Shaheen Ka Jigar Paida Burst into song, oh nightingale! so that from your melody The spirit of the royal falcon may arise in the delicate body of the dove! اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا اُفقِ خاور پر بزم میں ش...

Khushamad (Zarb e Kaleem-154) - Dr. Allama Iqbal

Image
Main Kaar-e-Jahan Se Nahin Aagah, Wa Lekin Arbab-e-Nazar Se Nahin Poshida Koi Raaz I may not be aware of the affairs of the world, But no secret is hidden from the people of insight. Kar Tu Bhi Hukumat Ke Wazeeron Ki Khushamd Dastoor Naya, Aur Naye Dour Ka Aghaz Flatter the ministers of the government as well, A new constitution, and the beginning of a new era! Maloom Nahin Hai Ye Khushamd Ke Haqiqat Keh De Koi Allu Ko Agar ‘Raat Ka Shahbaz’! I do not know whether it is flattery or reality, If someone calls an owl the ‘royal falcon of the night’! (Zarb-e-Kaleem-154) Khushamad (Flattery) مَیں کارِ جہاں سے نہیں آگاہ، و لیکن اربابِ نظر سے نہیں پوشیدہ کوئی راز کارِ جہاں : دنیا کے معاملات، دنیاوی امور۔ اربابِ نظر: اہلِ بصیرت، وہ لوگ جو گہری نظر رکھتے ہیں   اقبالؒ فرماتے ہیں کہ بظاہر وہ دنیا کے معاملات اور چالاکیوں میں براہِ راست مداخلت نہیں کرتے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان سے بے خبر ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ جو لوگ گہری بصیرت رکھتے ہیں، ان کے لیے دنیا کے کسی نظام کا راز چھپا ہوا نہیں ہ...

Mast Rakho Zikar-o-Fikar-e-Subhgahi Mein Isse - Dr. Allama Iqbal

Image
Mast Rakho Zikar-o-Fikar-e-Subhgahi Mein Isse Pukhta Tar Kar Do Mazaaj-e-Khanqahi Mein Isse Keep them well absorbed in the remembrance and meditation of the early dawn Strengthen further their inclination toward monastic seclusion. ابلیس اپنے مُشیروں سے مست رکھّو ذکر و فکرِ صُبحگاہی میں اسے پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے یہ شعر امتِ مسلمہ کے دو مختلف مگر مہلک رویوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، اگرچہ ان میں سے ایک براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا، لیکن مکمل تصویر کے لیے دونوں پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے: 1. ذکر و فکر میں مست رہنا مگر عمل سے دور ہونا: ابلیس چاہتا ہے کہ مسلمان صرف رسمی عبادات، ذکر، اور فکرِ صبحگاہی میں مگن رہیں، لیکن دین کے عملی تقاضوں، جدوجہد، اور دنیاوی معاملات سے کنارہ کش ہو جائیں۔ یوں وہ خانقاہی زندگی کا شکار ہو کر قوم کی تعمیر و ترقی اور اجتماعی فلاح کے لیے غیر مؤثر بن جائیں۔ یہ رویہ امت کو عمل سے محروم کر کے زوال کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ 2. دنیاوی لذتوں اور مادہ پرستی میں گم ہونا: اگرچہ شعر میں براہِ راست ذکر نہیں، لیکن امت کے زوال کا دوسرا پہلو مادہ پرستی اور دنیاوی لذتوں میں ...

Ho Ga Kabhi Khatam Ye Safar Kya - Dr. Allama Iqbal

Image
Ho Ga Kabhi Khatam Ye Safar Kya Manzil Kabhi Aye Gi Nazar Kya Will this journey ever come to an end? Will the destination ever be in sight? (Bang-e-Dra-072) Chand Aur Tare ہو گا کبھی ختم یہ سفر کیا منزل کبھی آئے گی نظر کیا مطلب:اس شعر میں علامہ اقبال زندگی کی مسلسل جدوجہد اور حرکت کا فلسفہ بیان کرتے ہیں۔ تارے سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ سفر کبھی ختم ہوگا اور منزل نظر آئے گی؟ نظم میں چاند وضاحت کرتا ہے کہ کائنات کا اصول حرکت ہے، اور سکون میں موت پوشیدہ ہے۔ اصل حسن اور کامیابی مسلسل جدوجہد اور سفر میں ہے، نہ کہ رکنے میں۔ ~ Dr. Allama Iqbal Background Vocals: Ali Dawud - My Way #Journey #life #Safar #Iqbaliyat #Poetry #Success #Progress #Momin #lines #quotes #IslamicPoetry #IslamicMotivation #Inspiration #AllamaIqbal #AakhriPaigham #Hayat #ZouqeSafar #Manzil #Destination