(Bal-e-Jibril-162) Haal-o-Maqam Alfaz-o-Maani Mein Tafawat Nahin Lekin Mullah Ki Azan Aur, Mujahid Ki Azan Aur There is no difference in words and meanings, but The adhan of a Mullah is different, the adhan of a Mujahid is different. الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن مُلّا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور معانی: تفاوت: فرق۔ ملّا : مولوی۔ مجاہد: جہاد کرنے والا مطلب: حکیم الامت ڈاکٹرعلامہ اقبال ملّا اور مجاہد کی اذان کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ زبان الفاظ اور متن کے اعتبار سے ملا جو اذان دیتا ہے وہی اذان مجاہد بھی دیتا ہے لیکن ان میں فرق نیت اور کردار کا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ ملا جو اذان دیتا ہے تو محض اس کا تعلق زبان اور حلق سے ہوتا ہے ۔ روحانی سطح پر وہ اس کا اذان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا گویا اس کا عمل محض دکھاوے کے لیے ہوتا ہے اس کے برعکس مجاہد کی اذان دل سے برآمد ہوتی ہے اور اس اذان میں قوت ایمان بھی کارفرما ہوتی ہے ۔ حالت امن ہو یا میدان کارزار اس کی اذان نفس مطمئنہ کی مظہر ہوتی ہے ۔ یہی ملا اور مجاہد کی اذان میں فرقہ ہے ۔ https://allamaiqbal.carrd.co/ https://www.youtube.com/@Aakhr...
. Dunya Ko Hai Phir Ma’arka-e-Rooh-o-Badan Paish Tehzeeb Ne Phir Apne Darindon Ko Ubhara The world faces again the battle of soul and body, Civilization once more nurtures its beasts. Allah Ko Pa-Mardi-e-Momin Pe Bharosa Iblees Ko Yourap Ki Machinon Ka Sahara Allah trusts in the manhood of the true believer, While Satan relies on the machines of Europe. Taqdeer-e-Umam Kya Hai, Koi Keh Nahin Sakta Momin Ki Firasat Ho To Kafi Hai Ishara No one can say what the destiny of nations is, If a believer possesses insight, a mere gesture is enough. (Armaghan-e-Hijaz-02) Budhe Baloch Ki Nasihat Baite Ko دنیا کو ہے پھر معرکہَ روح و بدن پیش تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا معانی: معرکہ روح و بدن: روح اور جسم یا من اور تن میں جنگ ۔ تہذیب: جدید تہذیب، مغرب کی تہذیب ۔ درندہ: جنگل کا خونخوار جانور ۔ مطلب: مغربی تہذیب و ثقافت، علوم و فنون اور سیاسی و معاشرتی نظاموں نے انسانوں کو جنگل کے خونخوار جانور بنا کر رکھ دیا ہے ۔ ہر کوئی بدن کی آسائش کے درپے ہے اور روح اور اس کے تقاضوں کو بھول چکا ہے ۔ ایسا جس...
Woh Zamane Mein Mu’azzaz The Musalman Ho Kar Aur Tum Khawar Huwe Taarik-e-Quran Ho Kar The honoured of their times, they lived, For theirs was true iman, You live disgraced, as having left the paths of Al‐Quran. وہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارکِ قُرآں ہو کر علامہ اقبالؒ اس شعر میں مسلمانوں کی کمزوری اور پستی کی بنیادی وجہ بیان کر رہے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں مسلمان دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہے، لیکن یہ عزت اور عظمت صرف اس لیے ممکن ہوئی کیونکہ وہ دینِ اسلام پر مکمل عمل پیرا تھے اور قرآن کو اپنا رہنما مانتے تھے۔ پہلا مصرعہ ہمیں اس دور کی یاد دلاتا ہے جب مسلمان علم، تہذیب، اور عدل و انصاف کے میدان میں سب سے آگے تھے۔ ان کی کامیابی کا راز ان کی دینی وابستگی تھی، کیونکہ وہ قرآن کے احکامات کو سمجھ کر ان پر عمل کرتے تھے۔ اسی قرآن نے انہیں بلند مقام عطا کیا اور دنیا میں سربلند رکھا۔ دوسرے مصرعے میں اقبالؒ مسلمانوں کو ان کے موجودہ حالات کا آئینہ دکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کے مسلمان قرآن سے دور ہو چکے ہیں، اس کی تعلیمات کو بھلا بیٹھے ہیں اور اس پر عمل ...
Comments
Post a Comment