2025 Collection - Aakhri Paigham - Dr. Allama Muhammad Iqbal (R.A.)


2025 Collection - Aakhri Paigham

What begins as inspiration
must end as transformation,
for Ishq knows no end.
"عشق سراپا دوام، جس میں نہیں رفت و بود"

#2025 #AllamaIqbal #AakhriPaigham 

Poetry (Used in Video):

اقبالؔ بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتارکا یہ غازی تو بنا،کردار کا غازی بن نہ سکا

شکوہِ عید کا منکر نہیں ہوں مَیں، لیکن
قبولِ حق ہیں فقط مردِ حُر کی تکبیریں

یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اُخُوّت کا بیاں ہو جا، محبّت کی زباں ہو جا

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے
بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے
نظّارۂ دیرینہ زمانے کو دِکھا دے
اے مصطفَوی خاک میں اس بُت کو ملا دے!

خدا نصیب کرے ہِند کے اماموں کو
وہ سجدہ جس میں ہے مِلّت کی زندگی کا پیام!

نِگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

تھا جو ’ناخُوب، بتدریج وہی ’خُوب‘ ہُوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بِینا

لیکن مجھے پیدا کیا اُس دیس میں تُو نے
جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند!

وہ کون سا آدم ہے کہ تُو جس کا ہے معبود
وہ آدمِ خاکی کہ جو ہے زیرِ سماوات؟
مشرق کے خداوند سفیدانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فِلِزّات
یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہُنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات
رعنائیِ تعمیر میں، رونق میں، صفا میں
گِرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات
ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جُوا ہے
سُود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات
یہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبُّر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہُو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
بے کاری و عُریانی و مے خواری و اِفلاس
کیا کم ہیں فرنگی مَدنِیّت کے فتوحات
وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اُس کے کمالات کی ہے برق و بخارات
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کُچل دیتے ہیں آلات
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
کب ڈُوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دُنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات!

سرودِ رفتہ باز آید کہ ناید؟
نسیمے از حجاز آید کہ ناید؟
سرآمد روزگار این فقیرے
دگر داناے راز آید کہ ناید؟

تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں
نہ گِلہ ہے دوستوں کا، نہ شکایتِ زمانہ

طہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جینوا
شاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!

یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تُو
مجھ کو تو گِلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے!

الحذَر، محکوم کی مَیّت سے سو بار الحذَر

مقامِ عقل سے آساں گزر گیا اقبالؔ
مقامِ شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی

صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبر حُسینؓ بھی ہے عشق
معرکۂ وجُود میں بدر و حُنَین بھی ہے عشق

غریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حُسینؓ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑ

خوشا وہ وقت کہ یثرِب مقام تھا اس کا
خوشا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا

خیاباں میں ہے مُنتظر لالہ کب سے
قبا چاہیے اس کو خُونِ عرب سے
کیا تُو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں، نظر میں، اذانِ سحَر میں
طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انھی کے جگر میں
کُشادِ درِ دل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
دلِ مردِ مومن میں پھر زندہ کر دے
وہ بجلی کہ تھی نعرۂ ’لَاتَذَر‘ میں
عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کر دے!

~ Dr. Allama Muhammad Iqbal (R.A.) 

#Poetry #YearlyCollection #Iqbaliyat #Urdu #IslamicPoetry #IslamicVideos #SirIqbal #WakeupMuslims #RiseupUmmah #Ummah
#Millat #AkhriPaigham

Comments

Popular posts from this blog

Mullah Ki Azan Aur, Mujahid Ki Azan Aur - Dr. Allama Iqbal

Woh Zamane Mein Mu’azzaz The Musalman Ho Kar - Dr. Allama Iqbal

Dunya Ko Hai Phir Ma’arka-e-Rooh-o-Badan Paish - Dr. Allama Iqbal